Sunday, April 29, 2018

رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا


رئیسؔ اشکوں سے دامن کو بھگو لیتے تو اچھا تھا
حضور دوست کچھ گستاخ ہو لیتے تو اچھا تھا

جدائی میں یہ شرط ضبط غم تو مار ڈالے گی
ہم ان کے سامنے کچھ دیر رو لیتے تو اچھا تھا

بہاروں سے نہیں جن کو توقع لالہ و گل کی
وہ اپنے واسطے کانٹے ہی بو لیتے تو اچھا تھا

ابھی تو نصف شب ہے انتظار صبح نو کیسا
دل بیدار! ہم کچھ دیر سو لیتے تو اچھا تھا

قلم روداد خون و اشک لکھنے سے جھجکتا ہے
قلم کو اشک و خوں ہی میں ڈبو لیتے تو اچھا تھا

فقط اک گریۂ شبنم کفایت کر نہیں سکتا
چمن والے کبھی جی بھر کے رو لیتے تو اچھا تھا

سراغ کارواں تک کھو گیا اب سوچتے یہ ہیں
کہ گرد کارواں کے ساتھ ہو لیتے تو اچھا تھا

میری چاہت کی بہت لمبی سزا دو مجھ کو


میری چاہت کی بہت لمبی سزا دو مجھ کو

کرب تنہائی میں جینے کی دعا دو مجھ کو



فن تمہارا تو کسی اور سے منسوب ہوا
کوئی میری ہی غزل آ کر سنا دو مجھ کو



حال بے حال ہے تاریک ہے مستقبل بھی
بن پڑے تم سے تو ماضی مرا لا دو مجھ کو



آخری شمع ہوں میں بزم وفا کی لوگو
چاہے جلنے دو مجھے چاہے بجھا دو مجھ کو



خود کو رکھ کے میں کہیں بھول گئی ہوں شاید
تم مری ذات سے ایک بار ملا دو مجھ کو